Pakistan Study Centre

University of Peshawar

Monday, 13 November 2017 10:14

پاکستان سٹڈی سنٹر اور اکادمی ادبیات کا مشترکہ قومی سیمینار

اکادمی ادبیات اور پاکستان سٹڈی سنٹر ،یونیورسٹی آف پشاور نے”تحریک آزادی میں اہل قلم کا کردار“کے موضوع پرپشاور میں مشترکہ قومی سیمینار کا انعقاد کیاجس کی صدارت ممتاز دانشور پروفیسر ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک نے کی ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض پشتو اکیڈمی کے پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان

سیماب نے انجام دیے۔

تقریب کاآغاز پاکستان سٹڈی سنٹر کی طالبہ مرینہ خٹک نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ اپنے استقبالیہ کلمات میں پاکستان سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام نے اکادمی ادبیات کا شکریہ ادا کیا جس نے اس اہم موضوع پر سمینار کے لیے پاکستان سٹڈی سنٹر کا انتخاب کیا انہوں نے سنٹر میں متعدد شعراء و ادیبوں کی موجودگی پر مسرت کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنٹر کے طلباء و طالبات اور عملہ ان سے بہت کچھ سیکھیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ شعراء اور ادیب معاشرے کی عمارت میں بنیاد کی اینٹیں ہیں جو نظر تو نہیں آتیں مگر معاشرے کی عمارت ان کے دم سے ایستادہ ہے ۔ گورنمنٹ کالج لنڈی کوتل کے پروفیسر تاثیر شینواری نے تحریک پاکستان میں اہل قلم کے کردار پرپر مغز مقالہ پیش کیا انہوں نے اُردو کے ساتھ ساتھ پشتو کے شعراء کا تفصیل سے ذکر کیا جنہوں نے اپنے اشعار سے تحریک کی رگوں میں جان دوڑائی ۔ سیمینار میں مقالہ پیش کرتے ہوئے معروف دانشور و شاعر پروفیسر داور خان داؤدنے تحریک پاکستان میں خیبر پختونخوا کے کردارکا تفصیلی تذکرہ کیا اور ساتھ ساتھ ان شعراء کے کلام کے نمونے پیش کئے جو انہوں نے آزادی کی تحریک میں لکھے تھے۔ دونوں مقالہ نگاران نے آزادی کے موضوع پر پشتو کے ٹپے بھی سنائے۔

سابقہ پولیس آفیسر اور شاعر بابر آزاد نے اپنے مقالے میں حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ کو تحریک پاکستان کے تمام قلم کا سردار قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جس نظریےکی بنیاد پر قائم ہوا علامہ اقبال اسکے سب سے بڑے داعی تھے ۔ تحریک پاکستان کا شعوری پہلو علامہ اقبال کے مرہون منت ہے ۔ 

سید ولی خیال نے پاکستان سٹڈی سنٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے سیمینار کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کی انہوں نے کہا کہ ویسے تو تحریک پاکستان میں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے حصہ لیا مگر اہل قلم کا کردار بہت اہم تھا۔ قلمکار وں نے نہ صرف حصول پاکستان میں کردار ادا کیا بلکہ استحکام پاکستان میں بھی ان سے بڑی امید وابستہ ہیں۔ 

 

صدر مجلس پروفیسر ڈاکٹر اقبال نسیم خٹک نے خطبہ صدارات دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ سیمینار  وقت اہم تقاضا ہے ۔ اکادمی ادبیات نے اس قسم کے پروگرامات کے لیے یونیورسٹی کے ایک مرکز کا انتخاب کر کے قابل تقلید مثال قائم کی ۔ایسے پروگرامات سے وطن سے محبت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔ 

پروگرام کے آخر میں اُردو ، پشتو اور ہندکو مشاعرہ ہوا جن شعراء نے اس موقع پر اپناکلام پیش کیا ان میں ڈاکٹر شیرزمان سیماب ، زیڈ آئی اطہر ، بابر آزاد، ڈاکٹر شاہدہ سردار ، ثمینہ قادر ، اختر ننگیال، یوسف علی دلسوز ، پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام اور اقبال نسیم خٹک شامل تھے۔

 
leftThe University of Peshawar is a public sector university in the city of Peshawar, Pakistan. The university was established in October 1950 by Mr. Liaquat Ali Khan, the first Prime Minister of Pakistan as an offshoot of Islamia College Peshawar, which was founded in 1913.  read more

Connect